نئی دہلی،30؍ نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ایودھیا میں رام مندر کو لے کر رتھ یاترا نکالنے جا رہا ہے۔مندر کے لئے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش دہلی سے شروع ہوگی۔اس رتھ یاترا کو ’سنکلپ رتھ یاترا‘ کا نام دیا گیا ہے۔دہلی سے شروع ہونے والی یہ یاترا 1 دسمبر سے 9 دسمبر تک پوری دہلی میں نکالی جائے گی۔رتھ یاترا کے انعقاد کی ذمہ داری آر ایس ایس کی تنظیم جاگرن منچ کو دی گئی ہے۔یاتراکی شروعات آر ایس ایس تنظیم کو چلانے والے کل بھوش آہوجا جھنڈے والان مندر سے کریں گے۔واضح رہے وشو ہندو پریشد پہلے سے ہی پورے ملک میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں لگی ہے۔ وشو ہندو پریشد نے حال ہی میں ایودھیا میں ’دھرم سبھا‘کا انعقاد کروایا تھا۔اس میں ملک بھر کے سنتوں نے حصہ لیا تھا۔دھرم سبھا میں ایودھیا میں رام مندر بنانے کا مطالبہ اٹھایاگیاتھا۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے آرڈیننس لایا جائے۔اسی دن شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے بھی ایودھیا پہنچے تھے۔ایودھیا میں ادھو ٹھاکرے نے مودی حکومت پر نشانہ لگایا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر رام مندر نہیں بنا تو دوبارہ بی جے پی حکومت نہیں آئے گی۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا صبر کا وقت اب ختم ہوا اور اگر اتر پردیش کے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا معاملہ سپریم کورٹ کی ترجیح میں نہیں ہے تو مندر کی تعمیر ی کام کے لئے قانون لانا چاہئے۔انہوں نے کہا تھا کہ ایک سال پہلے میں نے خود کہا تھا کہ صبرکرولیکن اب میں ہی کہہ رہا ہوں کہ صبر سے کام نہیں چلے گا۔ اب ہمیں لوگوں کو متحد کرنے کی ضرورت ہے۔اب ہمیں قانون کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی بھاگوت نے کہا تھاکہ چاہے جو بھی وجہ ہو کیونکہ عدالت کے پاس وقت نہیں ہے یا رام مندر معاملہ ان کی ترجیح میں نہیں ہے یا شاید وہ معاشرے کی حساسیت کو نہیں سمجھ پا رہی ہے۔ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بارے میں غور کرے کہ مندر کی تعمیر کے لیے کس طرح ایک قانون لایا جائے۔قانون جلد سے جلد لایا جانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ اب یہ تحریک کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔